Pope Leo XIV نے، اینگولا کے لیے اپنے طیارے پر سوار ہوتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مباحثہ “بالکل بھی میری دلچسپی کا معاملہ نہیں ہے”。[1] یہ تبصرہ اس کے 10‑دن کے افریقی دورے کے تیسرے مرحلے کے دوران دیا گیا۔[2]
پاپ کی عوامی تصادم سے گریز کرنے کی یہ فیصلہ اس کے اس ارادے کو واضح کرتا ہے کہ ویٹیکن کا سفارتی ایجنڈا امن کی تعمیر پر مرکوز رہے، نہ کہ ذاتی سیاست پر، جو کہ امریکی‑ویٹیکن تعلقات کو بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان شکل دے سکتا ہے۔[1]
“صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی مباحثے کو، ان کے حالیہ تبادلے کے دوران، \"بالکل بھی میری دلچسپی نہیں ہے\"” انہوں نے کہا، اور افزودہ کیا کہ یہ بیانات حالیہ تبصروں کے ردعمل کے طور پر نہیں بلکہ ایک تیار شدہ پیغام کا حصہ ہیں۔[1]
پاپٹین اینگولا کی طرف سفر جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے قبل انہوں نے کیمرون میں خطاب کیا تھا، اور اس سفر کے مقصد کو براعظم میں مصالحت اور تنازعے کے حل کو فروغ دینا قرار دیا۔ یہ 10‑دن کا سفر ایجنڈے کے تیسرے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں متعدد ممالک میں مقامی رہنماؤں اور مذہبی گروہوں سے ملاقاتیں طے شدہ ہیں۔[2] — ویٹیکن امید رکھتا ہے کہ یہ ایجنڈا علاقائی تنازعات میں اس کے ثالثی کردار کو مستحکم کرے گا۔
این ڈی ٹی وی انڈیا نے رپورٹ کیا کہ یہ بیان کیمرون کے خطاب کے بعد دورے کے دوسرے مرحلے میں دیا گیا، لیکن زیادہ معتبر ذرائع، دی ہِل اور این بی سی نیوز کے مطابق، یہ بیان تیسرے مرحلے میں دیا گیا، جو اینگولا کے طیارے کے وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔[1][2]
Pope Leo XIV نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے بارے میں تبصرے ہفتوں قبل تیار کیے گئے تھے، اس بات کو تقویت دیتے ہوئے کہ امریکی رہنما کے ساتھ مباحثہ اس کے مشن کی ترجیح نہیں، اور توجہ افریقہ بھر میں امن کی ترویج پر برقرار ہے۔[4]
“"صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی مباحثے کو، ان کے حالیہ تبادلے کے دوران، \"بالکل بھی میری دلچسپی نہیں ہے\""”
اپنے افریقی حج کو سیاسی مقابلے میں تبدیل کرنے سے انکار کر کے، Pope Leo XIV اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ ویٹیکن اپنی طویل المدتی امن‑تعمیر ایجنڈے کو عارضی میڈیا جھگڑوں پر فوقیت دے گا، ایک قدم جو امریکہ کے ساتھ سفارتی راستے محفوظ رکھ سکتا ہے اور مقدس سیت کی غیرجانبدار ثالثی کی ساکھ کو تنازعے کے شکار علاقوں میں مضبوط بنائے گا۔





