پوپ لیو ۱۴X نے ۱۸ اپریل ۲۰۲۶ کو اینگولا میں لینڈنگ کی [2]، جو اس کے ۱۱ روزہ افریقی دورے کا تیسرا مقام تھا [1]۔

یہ دورہ عالمی نگرانی کے پیشِ منظر پر آتا ہے جس میں پوپ کے امریکی قیادت کے ساتھ تعلقات پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اپنے موقف کی وضاحت کر کے، پوپ افریقا میں نظامی غربت اور بدعنوانی کے خلاف اپنے مشن پر عالمی بیانیے کی توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔

لوانڈا پہنچنے پر، پوپ نے عالمی قیادت کے بارے میں پیشگی تبصرے سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔ انہوں نے کہا، "صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مباحثہ کرنا میرے کسی بھی مفاد میں نہیں ہے" [3]۔ یہ بیان اس تناؤ کے بعد آیا ہے جب پوپ نے پہلے کہا تھا، "ہم چند ظالموں کے ہاتھوں تباہ ہو رہے ہیں" [5]۔

پونٹیف نے واضح کیا کہ یہ مخصوص تبصرے امریکی رہنما پر تنقید کے طور پر نہیں دیے گئے تھے۔ "چند ظالموں کے بارے میں بیان امریکی صدر کی طرف مخص نہیں تھا" پوپ نے کہا [4]۔

یہ ۱۱ روزہ دورہ [1] امن کو فروغ دینے اور براعظم کے غریب عوام کی مشکلات کو اجاگر کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اینگولا میں، پوپ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقامی رہنماؤں کے ساتھ بدعنوانی کے معاشی ترقی پر اثرات پر گفتگو کریں گے۔

یہ سفر کا مرحلہ وسیع سفارتی کوشش کے تیسرے مرحلے [1] کی نشاندہی کرتا ہے جس کا مقصد افریقہ میں کیتھولک چرچ کی موجودگی کو مضبوط بنانا ہے۔ پوپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی ترجیحات ان کے پیروکاروں کی روحانی اور مادی فلاح و بہبود پر مرکوز ہیں، نہ کہ ریاستی سربراہوں کے ساتھ سیاسی تنازعات پر۔

"صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مباحثہ کرنا میرے کسی بھی مفاد میں نہیں ہے۔"

یہ تعامل ویٹیکن کی جانب سے سفارتی غیرجانبداری برقرار رکھنے اور افریقہ میں اخلاقی ایجنڈے پر عمل کرنے کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ 'ظالموں' پر اپنے تبصروں کو امریکی صدارت سے واضح طور پر الگ کر کے، پوپ لیو ۱۴X اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک عظیم طاقت کے ساتھ سیاسی کشیدگی ان کے اینگولا اور دیگر افریقی ممالک میں انسانی ہمدردی کے مقاصد پر حاوی نہ ہو۔