پاپا لیو XIV نے ہفتے کے روز انگولا کے رہنماؤں کو صدیوں سے افریقہ کو استحصال کرنے والے مفادات کے چکروں کو توڑنے کا مطالبہ کیا [1, 3]۔
یہ دورہ انگولا کی معاشی صلاحیت اور اس کے شہریوں پر جاری نظامی فقر و بدعنوانی کے درمیان کشیدگی کو واضح کرتا ہے۔ ان مسائل کو براہِ راست حل کر کے، پوپ چرچ کو تاریخی طور پر اس خطے کو متاثر کرنے والے استحصالی ترقیاتی ماڈلز کے خلاف ایک اخلاقی فیصلہ ساز کے طور پر پیش کر رہے ہیں [4, 6]۔
لوآنڈا میں خطاب کرتے ہوئے پوپ نے کہا کہ "استخراجیت کا منطق" سماجی اور ماحولیاتی آفات کا سبب بنتا ہے [5]۔ انہوں نے قومی قیادت سے اپیل کی کہ چند افراد کے محدود مفادات پر ترجیح دے کر جامع انسانی ترقی کو اولین ترجیح بنائیں [2, 7]۔
"ہمیں ان مفادات کے چکروں کو توڑنا ہوگا جنہوں نے صدیوں سے افریقہ کو لُٹا اور استحصال کیا ہے," پوپ نے کہا [1]۔
پوپ کے بیانات امید اور یکجہتی کا پیغام انگولا کے عوام تک پہنچانے کی وسیع تر کوشش کا حصہ تھے [2]۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کے استخراج کا موجودہ رجحان اکثر بیرونی یا اشرافیہ کے مفادات کو فائدہ پہنچاتا ہے جبکہ عام عوام کو فقر میں چھوڑ دیتا ہے [4]۔
"انگولا کو عوامی مفاد کو مخصوص مفادات پر فوقیت دینی چاہیے," پوپ نے کہا [7]۔
اپنی تقریر کے دوران، لیو XIV نے حکومت پر تنقید کو عوام کے لیے حوصلہ افزائی کے پیغام کے ساتھ متوازن کیا۔ انہوں نے ایک ایسے حکمرانی ماڈل کی طرف تبدیلی کا مطالبہ کیا جو زمین کے وسائل کو غریبوں کے لیے واضح بہتری میں تبدیل کرنے کو یقینی بنائے [3]۔
"استخراجیت کا منطق سماجی اور ماحولیاتی آفات کا سبب بنتا ہے," پوپ نے کہا [5]۔
“"ہمیں ان مفادات کے چکروں کو توڑنا ہوگا جنہوں نے صدیوں سے افریقہ کو لُٹا اور استحصال کیا ہے۔"”
یہ مداخلت پاپائیت کی جانب سے ایک اسٹریٹیجک تبدیلی کی علامت ہے جس میں روحانی رہنمائی سے آگے بڑھ کر عالمی معاشی ڈھانچوں کی براہِ مستقیم تنقید کی جا رہی ہے۔ انگولا میں خاص طور پر 'استخراجیت' کا ذکر کر کے پاپا لیو XIV وسائل پر مبنی معیشتوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کر رہے ہیں جو دولت کی منصفانہ تقسیم میں ناکام ہیں، اور اس سے مقامی سول سوسائٹی کی تحریکیں جو نظامی حکمرانی کی اصلاح کا طلبگار ہیں، حوصلہ افزائی حاصل کر سکتی ہیں۔





