امریکی اسٹاکس نے گزشتہ ہفتے تیزی دکھائی جب S&P 500 نے 7,100 کی رکاوٹ توڑی اور Nasdaq نے 13‑دن کی جیت کی لڑی درج کی، جو 1992 کے بعد سب سے طویل ہے۔
یہ رجحان اہم ہے کیونکہ یہ مہینوں کی عدم استحکام کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، اور یہ کارپوریٹ مالیات، صارفین کی دولت اور فیڈرل ریزرو کی پالیسی فیصلوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
S&P 500 نے پہلی بار 7,100 سے اوپر بند ہونے کا سنگِ میل عبور کیا، جو کئی سالوں سے تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی تھی۔ اس انڈیکس کی پیش رفت بڑے اور وسطی کیپ اسٹاکس کی وسیع خریداری کی عکاسی کرتی ہے اور مارکیٹ کے شرکاء کو ذہنی حوصلہ افزائی فراہم کرتی ہے [1]۔
Nasdaq کی 13‑دن کی بڑھوتری 1992 کے بعد سب سے طویل جیت کی لڑی کی نشان دہی کرتی ہے، جو ٹیکنالوجی سیکٹر میں تجدید شدہ امید کو واضح کرتی ہے۔ یہ لڑی مضبوط کمائی رپورٹس اور ترقی‑محور حصص کی مسلسل طلب سے تقویت یافتہ تھی [1]۔
تجزیہ کاروں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی امیدیں ایران کے ساتھ امن معاہدے کی توقع سے بڑھیں – ایک پیش رفت جو جیوپولیٹیکل خطرے کو کم کر سکتی ہے – اور ساتھ ہی CNBC کی رپورٹ میں نمایاں کردہ دو دیگر مارکیٹ‑چلانے والی قوتیں [1]۔
یہ ہفتہ 1990 کے بعد سب سے تیز مارکیٹ کی واپسی بھی لے کر آیا، ایک بحالی کی رفتار جسے ماہرینِ معاشیات نے بحران‑بعد کے دور میں نایاب قرار دیا ہے۔ ایسی تیز رفتار تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ کا جذبات ایک ہی محرک پر نمایاں طور پر بدل سکتا ہے [1]۔
اگر یہ رفتار برقرار رہی تو منافع گھریلو دولت میں اضافہ، کمپنیوں کے لیے سرمایہ جمع کرنے کی سرگرمیوں میں اضافہ، اور پالیسی سازوں کی زیادہ معاون پوزیشن میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ رجحان سفارتی مذاکرات میں کسی بھی رکاوٹ یا غیر متوقع معاشی اعداد و شمار کے سامنے نازک رہتا ہے۔
“S&P 500 نے پہلی بار 7,100 سے اوپر بند ہونے کا سنگِ میل عبور کیا، جو کئی سالوں سے تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی تھی۔”
یہ ریکارڈ‑ساز ہفتہ اس بات کی علامت ہے کہ مارکیٹیں جیوپولیٹیکل کشیدگی میں کمی اور مضبوط کمائی کی رفتار پر مثبت ردعمل دے رہی ہیں، لیکن اس رجحان کی پائیداری اس بات پر منحصر ہوگی کہ ایران کے ساتھ سفارتی پیش رفت حقیقت بنے یا نہیں اور معاشی اعداد و شمار ترقی کی توقعات کو مسلسل سہارا دیتے رہیں۔





