محققین نے سولومنز سکس کی شناخت کی ہے، ایک چھ افراد پر مشتمل [1] آسٹریلوی فوجی دستہ جو دوسری عالمی جنگ کے دوران فعال تھا۔

یہ دریافت آسٹریلیا کی جنگی دفاع کے ایک مخفی باب پر روشنی ڈالتی ہے، جس سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ قومی سرحدوں کے تحفظ کے لیے مخصوص دستے موجود تھے۔ یہ دستے شدید رازداری کے تحت کام کرتے تھے تاکہ دشمن کی خفیہ معلومات اس ملکی ردعمل کے پیمانے کو سمجھ نہ سکیں۔

1940 کی دہائی میں [2] اس دستے کو ایک مخصوص "پکڑ‑اور‑مار" مشن سونپا گیا۔ اس گروپ کو آسٹریلیا کے دور دراز شمالی ساحل پر تعینات کیا گیا تاکہ وہ سرزمین پر اترنے والے جاپانی سپاہیوں کی شناخت کر کے انہیں ختم کر سکیں [1]۔

یہ مشن شمالی سرحد کے تحفظ پر مرکوز تھا، جس کے تحت داخل ہونے والوں کو غیر فعال کیا جاتا تھا [2]۔ چھ افراد پر مشتمل ایک چھوٹے، متحرک گروپ کے استعمال سے [1] آسٹریلوی فوج دشوار زمین میں دشمن کے مشاہدات پر فوری ردعمل دے سکتی تھی—یہ حکمت عملی ساحل پر جاپانی ٹھکانوں کے قیام کو روکنے کے لیے وضع کی گئی تھی۔

دہائیوں تک، ان افراد کی کہانیاں تاریخ کے دھندلے پردے میں گم رہ گئیں [2]۔ ان کے کام کی مخصوص نوعیت اور مشغولیات کے دور دراز مقامات کی وجہ سے اس وقت کم ہی ریکارڈ عوامی سطح پر سامنے آئے۔ دستے کے اراکین کی حالیہ شناخت سے مؤرخین کو اس تنازع کے دوران شمالی ساحل کی جنگی کارروائیوں کی دوبارہ ترتیب دینے کا موقع ملتا ہے۔

سولومنز سکس آسٹریلوی اندرونِ ملک میں کام کرنے والے ایک مخصوص مار دستے کی نادر مثال پیش کرتا ہے [1]۔ ان کا بنیادی مقصد دشمن سپاہیوں کو ختم کرنا تھا تاکہ سرزمین مزید داخلوں سے محفوظ رہ سکے [2]۔

سولومنز سکس کو دوسری عالمی جنگ میں ایک پکڑ‑اور‑مار دستے میں بھرتی کیا گیا تھا۔

سولومنز سکس کی شناخت آسٹریلیا کی دوسری عالمی جنگ کے دوران گھریلو سکیورٹی کے بیان میں ایک اہم مفقود جزو فراہم کرتی ہے۔ یہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ آسٹریلوی فوج نے سرزمین پر داخل ہونے والے افراد سے نمٹنے کے لیے جارحانہ، چھوٹے پیمانے کے جنگی دستے استعمال کیے، جس سے 1940 کی دہائی میں شمالی ساحل کی محسوس شدہ کمزوری نمایاں ہوتی ہے۔