وزیراعظم A. Revanth Reddy نے کہا کہ ریتھو بھروسہ اسکیم کی دوسری ₹5,653 کروڑ کی قسط 20 اپریل کو جاری کی جائے گی[2]۔

دوسری قسط کی کل رقم ₹5,653 کروڑ ہے۔

یہ ادائیگی ریاست بھر کے 45 لاکھ سے زائد کاشتکاروں کو ہدف بناتی ہے، جس کے تحت بیج، کھاد اور دیگر اجزاء کی لاگت پورا کرنے کے لیے براہِ راست نقد رقم فراہم کی جائے گی۔

دیہی معیشت میں فنڈز کے انضمام سے حکومت خریف سیزن سے قبل پیداوار میں اضافہ، کاشتکاروں کی تکلیف میں کمی اور آئندہ مقامی انتخابات سے قبل اپنی سیاسی حیثیت کو مستحکم کرنے کی امید رکھتی ہے[1]۔

45 لاکھ سے زائد کاشتکاروں کو معاونت فراہم کی جائے گی۔

ریتو بھروسہ، جو 2023 میں شروع ہوا، فوائد کو تین مراحل میں تقسیم کرتا ہے تاکہ ادائیگی کا عمل ہموار ہو اور رکاوٹیں کم ہوں[1]۔ پہلا مرحلہ 2023‑24 سیزن کو شامل کرتا تھا، جبکہ دوسرا مرحلہ گندم اور دالوں پر مرکوز تھا۔ آئندہ 20 اپریل کی ادائیگی تیسرا مرحلہ ہے جو موجودہ چکر کو مکمل کرتی ہے۔

₹5,653 کروڑ کی قسط ریاست کی 2024 میں اعلان کردہ ₹9,000 کروڑ زرعی بوسٹر پیکج کا نصف سے زیادہ حصہ ظاہر کرتی ہے۔ باقی فنڈز آبپاشی منصوبوں، مٹی کی صحت کے اقدامات اور مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کے لیے مخصوص ہیں[1]۔

یہ اسکیم ₹9,000 کروڑ زرعی بوسٹر کا حصہ ہے۔

وزیراعظم Reddy، جو تلنگانہ رشتہ سمیتی (TRS) کی نمائندگی کرتے ہیں، نے کہا کہ یہ اسکیم حکومت کی کاشتکاروں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادائیگی قرضوں کی عدم ادائیگی کو روکیں گی اور اعلیٰ قیمت والی فصلوں کی کاشت کو حوصلہ افزائی دیں گی۔

ادائیگی ریاست کے ای‑پے منٹ پلیٹ فارم کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی، جس سے مستحقین کو رقم براہِ مستقیم ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہو گی۔ حکام توقع کرتے ہیں کہ آغاز کے 48 گھنٹے کے اندر لین دین مکمل ہو جائے گا، جس سے پچھلے سبسڈی پروگراموں میں پیش آنے والی تاخیر کم ہو گی۔

ریتو بھروسہ پروگرام پیشگی فلاحی اقدامات جیسے تلنگانہ اسٹیٹ ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ فنڈ پر مبنی ہے، جس کا مقصد چھوٹے اور حاشیہ دار کاشتکاروں کے لیے جامع حفاظتی جال تیار کرنا ہے۔ نقد معاونت کو آبپاشی، مٹی کی صحت اور مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے ساتھ جوڑ کر حکومت فوری مالی ضروریات اور طویل مدتی پیداواری چیلنجز دونوں کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

دوسری قسط کی کل رقم ₹5,653 کروڑ ہے۔

اس کا مطلب: وسط سال کی نقد ادائیگی تلنگانہ کی زرعی جدیدیت کے وسیع اقدام کو مستحکم کرتی ہے جبکہ چھوٹے کاشتکاروں کی بڑی تعداد کو فوری ریلیف فراہم کرتی ہے۔ ادائیگی کو بڑے ₹9,000 کروڑ پیکج سے جوڑ کر ریاست مالیاتی عزم کی مسلسل پابندی کا اظہار کرتی ہے جو دیہی آمدنی کو مستحکم، آئندہ سیزن کے بیجائی فیصلوں کو تقویت اور مقامی انتخابات سے قبل حکمران جماعت کے سیاسی سرمائے کو مضبوط بنا سکتی ہے۔