صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 18 اپریل کو ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس میں امریکی صحت کے اداروں کو منتخب ذہنی تبدیلی والی ادویات کی جانچ کو تیز کرنے کا حکم دیا گیا۔ [1]
یہ اقدام PTSD، ڈپریشن اور دیگر ذہنی‑صحت کے اضطرابات کے لیے تجرباتی علاج تک رسائی کو تیز کرنے اور ادویات کی شیڈول‑I حیثیت پر دوبارہ غور کرنے کا مقصد رکھتا ہے، جو فی الحال زیادہ تر تحقیق کو روک رہی ہے۔ حکم PTSD کے تجرباتی تھراپی تک رسائی کو تیز کر سکتا ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ تیز تر منظوری دہائیوں پرانی مرکبات کو چند سالوں میں کلینکس تک پہنچا سکتی ہے، جبکہ مریضوں کے خاندان اس کو ممکنہ نجات کی کرن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ [1]
یہ حکم فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن، نیشنل انسٹیٹیوٹس آف ہیلتھ اور سبسٹنس ایبس اور مینٹل ہیلتھ سروسز ایڈمنسٹریشن کو ماہر پینلز کا انعقاد، 180 دن کے اندر رہنمائی جاری کرنے اور ایبوجین، سائیلوسائبین اور ایم ڈی ایم اے جیسے مادوں کے کنٹرولڈ سبسٹنس کے طور پر برقرار رہنے یا نہ رہنے پر سفارشات پیش کرنے کا حکم دیتا ہے۔ — [2]
ٹرمپ نے کہا، "ایف ڈی اے کو مخصوص ... کی جانچ کو تیز کرنے کا حکم دیتا ہے"۔ یہ پالیسی جانیں بچا سکتی ہے۔ [3]
پوڈکاسٹ میزبان جو روگن نے کہا، "میں نے اپنے پوڈکاسٹ کی ریکارڈنگ کے دوران ان علاج کے بارے میں سنا اور ٹرمپ کو ان کے بارے میں معلومات بھیجیں"۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی تبدیلی والی تھراپی میں عوامی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ [3]
صنعتی گروپ اور تعلیمی محققین نے اس حکم کا خیرمقدم کیا، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ تیز تر ایف ڈی اے جائزہ وفاقی گرانٹس اور نجی سرمایہ کاری کے دروازے کھول سکتا ہے، جبکہ ناقدین نے انتباہ کیا کہ رفتار کو سخت حفاظتی جانچ کے متبادل کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔ این آئی ایچ نے پہلے ہی ذہنی تبدیلی والی مطالعات کے لیے نمایاں فنڈز مختص کر دیے ہیں، ایک اضافہ جو موجودہ فنڈنگ کی سطح کو دوگنا کر سکتا ہے۔ [2]
ریپبلکن قانون سازوں نے اس اقدام کی تعریف ایک جرات مندانہ قدم کے طور پر کی جو طبی جدت کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ کئی ڈیموکریٹ سینیٹرز نے اس بات پر زور دیا کہ کانگریسی نگرانی کو یقینی بنانا چاہیے کہ حفاظتی معیارات متاثر نہ ہوں۔ دونوں پارٹیاں اس بات پر متفق تھیں کہ ذہنی‑صحت کے بحران نئے حل کا تقاضا کرتے ہیں۔ [2]
اداروں کے پاس 180 دن ہیں کہ وہ مسودہ رہنمائی شائع کریں، اس کے بعد عوامی تبصرے اور مشاورتی کمیٹی کے اجلاس حتمی ضوابط کی شکل دیں گے۔ اگر یہ ٹائم لائن برقرار رہی تو پہلی نظرثانی شدہ ادویات کی شیڈولز چند سالوں کے اندر سامنے آ سکتی ہیں، جس سے پہلے ممنوع کلینیکل ٹرائلز کے لیے دروازے کھل جائیں گے۔ [2]
ٹرمپ کی ذہنی تبدیلی والی ادویات میں دلچسپی اس سال کے شروع میں محققین اور میڈیا شخصیات کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آئی، جنہوں نے ابتدائی مرحلے کے ٹرائل نتائج کو اجاگر کیا۔ صدر پہلے غیر روایتی تھراپیوں کو مسترد کرتے تھے، اس لیے یہ پالیسی تبدیلی نمایاں ہے۔ حامیوں کا استدلال ہے کہ ان کی ذاتی تجسس طویل عرصے سے جاری بدنامی کو توڑنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ شک کرنے والوں نے انتباہ کیا کہ سیاسی حمایت سائنسی اتفاق رائے سے پہلے بڑھ سکتی ہے۔ [1]
اگر ایف ڈی اے تیز رفتار راستے فراہم کرتا ہے تو دوا ساز کمپنیاں سائیلوسائبین‑بنیاد اینٹی ڈپریسنٹس اور ایم ڈی ایم اے‑معاونت یافتہ سائیکوتھراپی کو مارکیٹ میں جلدی لا سکتی ہیں، جس سے اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ علاج‑مستقل PTSD کے حامل فوجی افراد کو فیز III ٹرائلز میں امید افزا نتائج دکھانے والی تھراپیوں تک پہلے رسائی مل سکتی ہے، جس سے امریکہ میں ذہنی‑صحت کی دیکھ بھال کا منظرنامہ بدل جائے گا۔
**یہ کیا معنی رکھتا ہے**: ایگزیکٹو اختیار کا استعمال کرتے ہوئے انتظامیہ وفاقی منشیات کی پالیسی کو نیا رخ دینے اور ذہنی‑صحت کی جدت کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر ادارے اس پر عمل کریں تو علاج‑مستقل مریضوں کو چند سالوں کے اندر نئے آپشنز مل سکتے ہیں، لیکن جائزے کی رفتار کو حفاظتی ریگولیٹرز اور قانون سازوں کی جانب سے قریب سے مانیٹر کیا جائے گا۔
“ٹرمپ نے کہا، "ایف ڈی اے کو مخصوص ... کی جانچ کو تیز کرنے کا حکم دیتا ہے"”
ایگزیکٹو اختیار کا استعمال کرتے ہوئے انتظامیہ وفاقی منشیات کی پالیسی کو نیا رخ دینے اور ذہنی‑صحت کی جدت کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر ادارے اس پر عمل کریں تو علاج‑مستقل مریضوں کو چند سالوں کے اندر نئے آپشنز مل سکتے ہیں، لیکن جائزے کی رفتار کو حفاظتی ریگولیٹرز اور قانون سازوں کی جانب سے قریب سے مانیٹر کیا جائے گا۔





