امریکی اپیل عدالت برائے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا سرکٹ نے اپریل 2026 میں حکم دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کے بال روم کی تعمیر دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے [1, 2]۔
یہ فیصلہ منصوبے کے زیرِ زمین اور سطحی دونوں حصوں کے جاری رہنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس حکم نے اس قانونی رکاوٹ کو ہٹا دیا جو پہلے اس سہولت پر کام کو روک چکی تھی، جسے عدالت نے صدر کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا [2, 4]۔
اپیل عدالت نے کہا کہ نچلی عدالت کا حکم برائے تعمیر کی روک تھام غیر مبرر تھا [2, 4]۔ بعض رپورٹس کے مطابق تعمیر صرف چند دن مزید جاری رہ سکتی ہے [3]، جبکہ دیگر دستاویزات کے مطابق کام کم از کم جون 2026 تک جاری رہنے کی اجازت ہے [1, 2]۔
بال روم کے منصوبے کی تخمینی لاگت 400 ملین ڈالر ہے [3]۔ قانونی تنازع اس بات پر مرکوز تھا کہ آیا تعمیر وفاقی رہنما اصولوں کے مطابق ہے اور نچلی عدالت کے پاس منصوبے کو منجمد کرنے کا اختیار تھا یا نہیں، جس فیصلے کو اپیل عدالت نے اب منسوخ کر دیا ہے [2, 4]۔
واشنگٹن، ڈی سی میں واقع وائٹ ہاؤس پر کام اس حکم کے فوراً بعد دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے [2, 3]۔ عدالت کا فیصلہ آئندہ مہینوں میں مزید عدالتی جائزے سے قبل ایک عارضی سرگرمی کا عرصہ فراہم کرتا ہے [1]۔
“اپیل عدالت نے نچلی عدالت کے حکم برائے کام کی روک تھام کو غیر مبرر پایا”
یہ حکم انتظامیہ کے لیے ایک نمایاں قانونی کامیابی کی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ اس نے ایگزیکٹو جائیداد کی تبدیلیوں پر نچلی عدالت کی پابندی کو منسوخ کر دیا۔ بال روم کو ایک اہم منصوبہ قرار دے کر، اپیل عدالت نے صدر کی عملی ضروریات کو سابقہ پابندی پر فوقیت دی ہے، تاہم جون کی آخری تاریخ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ منصوبے کی حتمی قانونی حیثیت آئندہ قانونی چارہ جوئی کے تابع رہتی ہے۔





