امریکی بحریہ نے جمعہ کے روز تازہ خوراک کی تصاویر جاری کیں تاکہ مشرق وسطیٰ کے جنگی جہازوں پر خوراک کی کمی کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹس کو مسترد کیا جا سکے [1]۔

یہ انکار فوجی حوصلے اور سروس کی ساکھ کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملاحوں کو کم معیار کی خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ ایسی رپورٹس اشارہ کرتی ہیں کہ ایران کے خلاف آپریشنز کے دوران اعلیٰ تناؤ والے علاقوں میں کام کرنے والے جہازوں کے لاجسٹک سلسلے میں خلل پیدا ہوا ہے [2]۔

بحریہ نے اپنی تصویری اشاعت میں دو جہازوں کو نمایاں کیا [1]۔ تصاویر میں طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln اور ایمفیبیئس اسالٹ شپ USS Tripoli پر پیش کی گئی خوراک دکھائی گئی ہے [1]۔ دونوں جہاز اس وقت مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں [1]۔

یہ اقدام وائرل سوشل میڈیا پوسٹس کے بعد آیا جن میں دعویٰ کیا گیا کہ عملے کو "منقسم خوراک" دی جا رہی ہے [2]۔ بحریہ نے ان دعووں کے خلاف ردعمل کے طور پر جہازوں کے گیلے میں دستیاب خوراک کے بصری شواہد فراہم کیے [2]۔

"ہمارے تعینات شدہ جہازوں پر خوراک کی کمی اور خراب معیار کے بارے میں حالیہ رپورٹس جھوٹی ہیں," ایک امریکی بحریہ کے ترجمان نے کہا [2]۔

بحریہ نے سوشل میڈیا رپورٹس کے ماخذ یا تصاویر کے لیے مخصوص تاریخوں کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ سروس نے اس بات پر زور دیا کہ تعینات شدہ جہازوں پر خوراک کا معیار معمول کے آپریشنز کے مطابق برقرار ہے [2]۔

ہمارے تعینات شدہ جہازوں پر خوراک کی کمی اور خراب معیار کے بارے میں حالیہ رپورٹس جھوٹی ہیں۔

سوشل میڈیا کے بیانیوں کے مقابلے میں بصری شواہد استعمال کرنے کا بحریہ کا فیصلہ فوجی عوامی تعلقات پر وائرل مواد کے بڑھتے اثر کو واضح کرتا ہے۔ خاص طور پر "منقسم خوراک" کے دعووں کو نشانہ بناتے ہوئے، بحریہ اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ لاجسٹک ناکامی کے بیانیے سے ملاحوں کے حوصلے پر منفی اثر نہ پڑے، خاص طور پر ایران کے خلاف حساس آپریشنز کے دوران۔