Skip to content
ہانا نیوز
Developingbusiness· Updated Wed, May 13, 7:47 AM

ویب سمٹ ونکوور 2026 میں: The Solutioners Labs کا مؤقف کہ AI کو واقعی ادارے کے اندر بسنا چاہیے

بانیان جواد خلیل اور ناصر تہرانی ایک شور بھری ہفتے میں ایک پُرسکون پیغام لے کر ونکوور آئے۔ کینیڈا کے سب سے زیادہ ضابطوں والے اداروں کے لیے ایک دہائی تک سائبر سکیورٹی چلانے کے بعد، ان کا خیال ہے کہ AI کی بحث بالآخر وہیں آ پہنچی ہے جہاں وہ پہلے سے کھڑے ہیں۔

Jawad Khalil at Web Summit Vancouver, May 2026 · Editorial

☐ Background · published Wed, May 13, 7:47 AM

مئی کا منگل ونکوور میں مٹیالے نیلے رنگ کا اور ہلکا سا ٹھنڈا ہے، اُس قسم کی مغربی ساحلی صبح جو ہر چیز کے کناروں کو نرم کر دیتی ہے۔ کنونشن سینٹر بالکل بندرگاہ پر کھڑا ہے۔ مقررین کے خیمے کے پیچھے سی پلین اڑان بھر رہے ہیں۔ نارتھ شور کے پہاڑ جتنے قریب لگ رہے ہیں، اُس سے زیادہ دور ہیں۔

بیس ہزار لوگ پلازہ پر لگے ہوئے بڑے سفید اور نیلے "websummit Vancouver" کے نشان کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ وہ سو سے زیادہ ممالک سے ویب سمٹ ونکوور کے دوسرے ایڈیشن کے لیے آئے ہیں — تین سال کے اُس عرصے کا دوسرا سال جس کا شہر نے وعدہ کیا ہے۔ اِن ہی لوگوں میں جواد خلیل اور ناصر تہرانی شامل ہیں، The Solutioners Labs کے دونوں بانی، جو ٹورنٹو میں قائم ایک ایسا ادارہ ہے جس نے گزشتہ اٹھارہ مہینوں میں ضابطوں والی صنعتوں کے لیے ایک ایسا نظام بنایا ہے جسے وہ "خود مختار فعال ذہانت" (sovereign active intelligence) کہتے ہیں۔

وہ یہاں کوئی نیا چیٹ بوٹ دکھانے نہیں آئے۔ ان کے اپنے بقول، وہ یہاں چیٹ بوٹ کے خلاف دلیل دینے آئے ہیں — اِس خیال کے خلاف کہ AI صرف ایک کھڑکی ہے جس میں آپ لکھتے ہیں۔

ناصر تہرانی (سامنے) اور جواد خلیل (ٹوپی میں) ویب سمٹ ونکوور کی ایک کلیدی تقریر فلور سے سن رہے ہیں۔
ناصر تہرانی (سامنے) اور جواد خلیل (ٹوپی میں) ویب سمٹ ونکوور کی ایک کلیدی تقریر فلور سے سن رہے ہیں۔

ایک دہائی، اصل کام کو دیکھتے ہوئے

The Solutioners Labs سے پہلے ایک سائبر سکیورٹی پریکٹس تھی۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جواد اور ناصر کی ٹیم لاء فرموں، بینکوں، ڈیلروں، اور اکاؤنٹنگ پریکٹسوں کے ساتھ کام کرتی رہی — وہ ادارے جہاں اعتماد کوئی نعرہ نہیں، بلکہ سارا کاروبار اُسی پر ٹکا ہوتا ہے۔

اُس دہائی نے انہیں ایسی بات سکھائی جو زیادہ تر ٹیکنالوجی فروخت کرنے والوں کو کبھی دیکھنے کو نہیں ملتی: اصل کام کا انداز۔ سلائیڈ پر دکھایا گیا کام نہیں۔ بلکہ جمعہ کی شام چار بج کر پچاس منٹ کا کام، جب ڈیل بند ہونے والی ہے اور پارٹنر جہاز میں بیٹھا ہے۔ سسٹمز کے درمیان چھوٹے چھوٹے خلا۔ ہر فیصلے کے پیچھے خاموشی سے بیٹھا ہوا ضابطوں کا دباؤ۔

"باہر سے ضابطوں والے کام کے لیے ڈیزائن نہیں کیا جا سکتا،" جواد، AI Summit ٹریک کے پیچھے کافی کارٹ کے قریب کھڑے ہو کر کہتے ہیں۔ "آپ اِسے ڈھک سکتے ہیں، اِس پر چیزیں لگا سکتے ہیں، لیکن آپ اِس کے لیے تب تک کچھ نہیں بنا سکتے جب تک آپ خود اِس کے اندر اِتنا وقت نہ گزاریں کہ آپ کو سمجھ آ جائے کہ گھڑی چلتے وقت لوگ اصل میں کیا کرتے ہیں۔"

جواد خلیل، The Solutioners Labs کے شریک بانی۔
جواد خلیل، The Solutioners Labs کے شریک بانی۔

پھر کمرشل AI آ گئی

تقریباً راتوں رات، اُن ہی اداروں کے پیشہ ور لوگ — جنہیں جواد اور ناصر ایک دہائی سے محفوظ رکھتے آ رہے تھے — اپنے روزمرہ کے کام میں صارفین کے لیے بنے AI ٹولز کھینچنے لگے۔ کلائنٹ کے میمو لکھنا۔ خفیہ خط و کتابت کا خلاصہ بنانا۔ مالی ڈیٹا کو ایسی چیٹ کھڑکیوں میں چپکانا جو اِس کام کے لیے کبھی بنی ہی نہیں تھیں۔

باہر سے یہ پیداواریت لگتی تھی۔ مگر جس مقام پر جواد اور ناصر کھڑے تھے — اِن اداروں کے ضابطوں کی حد کے اندر — وہاں سے یہ ایک رازداری کا مسئلہ اور ایک اخلاقی مسئلہ تھا جو ابھرنے ہی والا تھا۔

"یہ پیشہ ور لوگ غیر ذمہ دار نہیں تھے،" ناصر کہتے ہیں۔ "وہ تیز رفتار بننے کی کوشش کر رہے تھے۔ لوگ ہر نئے اوزار کے ساتھ یہی کرتے ہیں۔ مسئلہ صارف نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ اوزار جس شکل میں بھیجا گیا ہے، وہ ادارے کے اندر فِٹ نہیں بیٹھتا۔"

یہی مشاہدہ اِس کمپنی کی بنیاد کی کہانی ہے۔

مصنوعی نہیں، فعال

The Solutioners Labs اِسی جواب میں بنا۔ مرکزی خیال ایک سطر میں سما جاتا ہے: *مصنوعی ذہانت کو فعال ذہانت میں بدلنا۔*

"جو ماڈل صرف ایک چیٹ کھڑکی میں بیٹھے ہیں وہ مصنوعی ہیں،" جواد کہتے ہیں۔ "جو نظام آپ کے سیاق کو سمجھتے ہیں، آپ کے ضابطوں کی حد کے اندر چلتے ہیں، اور آپ کے بدلے میں اصل کام کرتے ہیں — وہ فعال ہیں۔"

یہ فرق محض کوئی نعرہ نہیں ہے۔ ایک مصنوعی ذہانت والے چیٹ بوٹ کو استعمال کرنا یاد رکھنا پڑتا ہے، اُس میں چیزیں چپکانی پڑتی ہیں، اور بعد میں اِس کا جواب جانچنا پڑتا ہے۔ ایک فعال ذہانت کا نظام پسِ پردہ چلتا رہتا ہے — کیس کی فائل دیکھتا ہے، پالیسی کا فولڈر، مشیر کی کتاب — اور بِنا پوچھے وہ بات سامنے لے آتا ہے جو اہم ہو۔ سب سے اہم بات: یہ سب کچھ ایسے ہوتا ہے کہ ڈیٹا کبھی بھی ادارے کے ضابطوں کی حد سے باہر نہیں جاتا۔ کسی بھی ایسے ماڈل کو باہر کوئی API کال نہیں جاتی جو ادارے کے کنٹرول میں نہ ہو۔ کوئی خفیہ مواد چپکے سے ریکارڈ نہیں ہوتا۔ کوئی بھی تخمینہ بیرونی حد سے نہیں چلایا جاتا۔

یہ آخری بات اُن گاہکوں کے لیے ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔ کوئی کینیڈین مشیر کسی امریکی سرور پر چلنے والے چیٹ اسسٹنٹ کو کلائنٹ کا پورٹ فولیو نہیں بھیج سکتا اور پھر یہ توقع نہیں رکھ سکتا کہ وہ صوبائی ضابطوں کے دائرے میں رہے گا۔ کوئی قانونی پارٹنر بلیک باکس کے کسی مکمل ہونے والے اینڈ پوائنٹ پر مسودۂ دعویٰ نہیں ڈال سکتا اور پھر اُس نتیجے کو رازدارانہ کہہ سکتا ہے۔ اِس فنِ تعمیر کا سارا مقصد یہی ہے کہ ایسا کرنا پڑے ہی نہیں۔

ایک کانفرنس جو پکڑنے میں لگی ہے

جس کمرے میں وہ چل رہے ہیں، وہ ایک طرح سے انہی کے قریب آ رہا ہے۔ اِس ہفتے ونکوور کے شیڈول پر بڑی بڑی نشستوں نے *خود مختاری* کا لفظ بِنا کسی طنز کے سامنے رکھا ہے۔ کینیڈا کے پہلے وزیرِ مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل اختراع، ایوان سولومن، کوہیئر کی جوئل پنیو کے ساتھ سینٹر اسٹیج پر آتے ہیں، ایک پینل میں جس کا عنوان ہے: "AI for All: Canada’s AI Moment"۔ بی سی کے وزیراعظم ڈیوڈ ایبی ایک الگ پینل میں صوبے کے ٹیک شعبے کی ترقی پر بات کرتے ہیں۔ ہفتے کا سب سے بڑا جیو پولیٹیکل اعلان: کینیڈا–جرمنی ڈیجیٹل اتحاد، جو نشستوں کے درمیان عمارت میں ہی سائن ہوا — AI، ڈیجیٹل خود مختاری، انفراسٹرکچر اور کوانٹم پر ایک مشترکہ عہد۔

افتتاحی تقاریر پوری کانفرنس کو ایک ہی سوال میں سمیٹ دیتی ہیں: *مستقبل کا مالک کون ہے؟* ماڈلز کا مالک کون، کمپیوٹ کا کون، تربیتی ڈیٹا کا کون، تخمینے کے راستے کا کون۔ تین سال پہلے یہ سوال محدود حلقوں کا تھا۔ اِس سال یہ سرخی ہے۔

"ہم نے دو سال ماڈل کی جگہ پر بحث کرتے ہوئے گزارے ہیں،" ناصر کہتے ہیں، نشستوں کے درمیان ہجوم چھٹتا دیکھ کر۔ "ماڈل کہاں رہتا ہے۔ کس کی حد میں ہے۔ کس کا ڈیٹا دیکھ سکتا ہے۔ یہ عجیب سا احساس ہے کہ اِس ہفتے فلور پر دیکھیں تو سب وہی بحث کر رہے ہیں۔"

ویب سمٹ ونکوور 2026 کا سینٹر اسٹیج۔ دوسرے ایڈیشن میں کنونشن سینٹر میں سو سے زیادہ ممالک سے تقریباً بیس ہزار شرکاء جمع ہوئے۔
ویب سمٹ ونکوور 2026 کا سینٹر اسٹیج۔ دوسرے ایڈیشن میں کنونشن سینٹر میں سو سے زیادہ ممالک سے تقریباً بیس ہزار شرکاء جمع ہوئے۔

عمل میں یہ کیسا لگتا ہے

The Solutioners Labs اصل میں جو بنا رہا ہے وہ AI پروڈکٹ کم اور بیک آفس پلمبنگ زیادہ لگتا ہے، جس میں ایک ماڈل دھاگے کی طرح بُنا گیا ہو۔ ایک کنیکٹر پرت اُن سسٹمز سے بات کرتی ہے جن کا ادارہ پہلے سے پیسہ دے رہا ہے — بیک آفس، ڈاکیومنٹ مینجمنٹ سسٹم، CRM، ای میل آرکائیو۔ ایک خود مختار ماڈل اُس انفراسٹرکچر پر چلتا ہے جس کا خود ادارہ آڈٹ کر سکتا ہے۔ ایک آرکیسٹریشن پرت ماڈل کی سوچ کو ٹھوس اقدامات میں بدلتی ہے: یہ میمو لکھو، یہ اسٹثناء سامنے لاؤ، یہ نشان لگاؤ، یہ توازن تجویز کرو۔

اِس میں سے کوئی بھی چیز چمکدار نہیں۔ کوئی چیز کانفرنس کے اسٹیج پر اچھی تصویر نہیں دیتی۔ یہی اصل بات ہے، جواد اور ناصر کہتے ہیں۔

"کانفرنس کی AI ڈیمو کے لیے بنائی جاتی ہے،" جواد کہتے ہیں۔ "ضابطوں والی AI کام میں چھپ جانے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ جس دن پارٹنر کو نظام نظر آنا بند ہو گیا، اُس دن نظام نے اپنی قیمت ادا کر دی۔"

خاموش شرط

The Solutioners Labs اصل میں صبر پر شرط لگا رہا ہے — اُس قسم کا صبر جو فیشن میں نہیں۔ شرط یہ ہے کہ جو ادارے خاموشی سے واہ واہ کرنے والے ڈیموز کے نیچے کا غیر دلچسپ انفراسٹرکچر بناتے رہے، وہی ادارے ریگولیٹرز کے آنے پر کھڑے ہوں گے۔ کہ جو ڈیلر تین ضابطوں کے دائروں میں دسیوں ہزار فعال کلائنٹ اکاؤنٹس کو سنبھالنا چاہتا ہے، وہ وہی پلیٹ فارم چنے گا جسے کبھی بھی کسی خفیہ دستاویز کو عمارت سے باہر بھیجنے کی ضرورت نہ پڑے۔ کہ جو قانونی پارٹنر تین دائرہ ہائے اختیار میں رازداری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ وہی نظام چنے گا جس کے معماروں نے ایک دہائی یہ سمجھنے میں گزاری ہو کہ رازداری اصل میں ہے کیا۔

اِس ہفتے ونکوور میں یہ شرط اُتنی متضاد نہیں لگتی جتنی ایک سال پہلے لگتی تھی۔ راہداریوں کی گفتگو اُنہی سخت سوالات کے گرد گھومنے لگی ہے۔ ڈیکس میں اُنہی الفاظ کا استعمال شروع ہو گیا ہے۔

"ہمیں کانفرنس کی سب سے اونچی آواز والی کمپنی بننے کی ضرورت نہیں،" ناصر کہتے ہیں، جب سی وال پر بندرگاہ کی ہوا تیز ہوتی ہے۔ "ہمیں وہ کمپنی بننا ہے جو ریگولیٹرز کے آنے پر بھی کھڑی ہو۔ یہ ایک مختلف قسم کا اصلاحی پیمانہ ہے۔"

بادل بہہ رہے ہیں۔ پہاڑ اب پہلے سے زیادہ صاف نظر آ رہے ہیں۔ ویب سمٹ ونکوور کے دوسرے ایڈیشن کا دوسرا دن شروع ہو رہا ہے۔

ویب سمٹ ونکوور 2026 میں: The Solutioners Labs کا مؤقف کہ AI کو واقعی ادارے کے اندر بسنا چاہیے · ہانا نیوز